Mashriq Newspaper

عمران خان، شاہ محمود، شیخ رشید سمیت پی ٹی آئی کے درجنوں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ریٹرننگ افسر نے اسکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کے بعد تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان، شاہ محمود قریشی سمیت دیگر رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے جبکہ مریم نواز، شہباز شریف، نواز شریف، بلاول بھٹو اور جہانگیر ترین کے کاغذات منظور کرلیے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کے ریٹرننگ افسر نے لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122 سے تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ امیدوار کے تائید کنندہ کا تعلق حلقہ سے نہیں ہے۔ اسی طرح میانوالی 1 کے حلقہ این اے 89 سے بھی عمران خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے۔

 

اس کے علاوہ تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 151 اور 150 سے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے جبکہ اُن کے بیٹے زین قریشی اور مہربانو کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے۔

ریٹرننگ افسر کے مطابق  شاہ محمود قریشی کے کاغذات پربیان حلفی اوردستخط کی جعل سازی کی گئی جبکہ وہ ریونیو ڈیاپرٹمنٹ کے 91 ہزار روپے کے ڈیفالٹر ہیں۔ اس کے علاوہ شاہ محمود قریشی کے تائید اورتجویز کنندہ پیش نہ ہوسکے۔ جبکہ مہر بانو کے تجویز کنندہ کا تعلق حلقے سے نہیں ہے اور
مخدوم زین قریشی کا تجویزکنندہ بھی ریٹرننگ آفیسرکے سامنے پیش نہ ہوا۔

اعظم خان، ذلفی بخاری کے کاغذات مسترد

اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اعظم خان سواتی کے مانسہرہ کے حلقہ این اے 15 پر جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے جبکہ ذلفی بخاری کے  این اے 50 اٹک کی سے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے۔

پنجاب کے حلقہ پی پی 90 سے عمران خان کے حقیقی کزن اور تحریک انصاف کے امیدوار عرفان خان کے کاغذات نامزدگی تائید کنندہ اور تصدیق کنندہ کے غیر حاصل ہونے کی بنیاد پر مسترد کیے گئے۔

شیخ رشید، راشد شفیق کے کاغذات مسترد 

این اے 56 اور 57 راولپنڈی سے شیخ رشید اور راشد شفیق کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے۔ ریٹرننگ افسر کے مطابق شیخ رشید نے ایف بی آر کے گوشواروں میں مبینہ گھپلا کیا جبکہ ریسٹ ہاؤس میں قیام کی رقم بھی ادا نہیں کی۔

شیخ رشید نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے چلینج کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہمیں زندگی میں کبھی ریسٹ ہاؤس نہیں رہا۔

راولپنڈی کے حلقہ این اے53 سے تحریک انصاف کے کرنل اجمل صابر کے کاغذات مسترد کردیے گئے۔

چوہدری پرویز الہیٰ، مونس الہیٰ اور مونس الہیٰ کے کاغذات مسترد

گجرات کے حلقہ این اے 64 اور پی پی 32 سے پرویز الہیٰ، اہلیہ قیصرہ الہیٰ اور بیٹے مونس الہیٰ کے بھی کاغذات نامزدگی کو ریٹرننگ افسر نے مسترد کردیا۔ ریٹرننگ افسر نے اعتراض عائد کیا ہے کہ امیدوار اسکروٹنی کیلیے پیش نہیں ہوئے۔

این اے 55 راولپنڈی کے حلقے سے 31 امیدواروں کے کاغذات منظور جبکہ گیارہ کے مسترد کردیے گئے۔ جن امیدواروں کے کاغذات مسترد ہوئے اُن میں اعجاز الحق، ملک طارق نون، خطیب الرحمن، ایرج شاہنواز راجہ، محمد طیب حسین پراچہ، بابر سلطان جدون، عمر تنویر ، سابق وزیر قانون پنجاب محمد بشارت راجہ، ناصر راجہ، زیاد خلیق کیانی شامل ہیں۔

ملک ابرار، سردار عبد الرزاق ایڈووکیٹ، ملک افتخار سمیت 31 امیدواران کے کاغذات منظور

تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان کے این اے 23 پر پی ٹی آٹی کے علی محمد خان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے جبکہ مردان سے پی ٹی آئی کے سابق رکن اسمبلی طفیل انجم کے حلقہ پی کے 55 کیلیے جمع کرائے گئے کاغذات بھی مسترد کردیے گئے۔

پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈہ پور کے این اے 44 ، پی کے 112، پی کے 113 سے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے جبکہ اُن کے والد، بھائی فیصل امین اور اہلیہ مہناز علی کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے ہیں۔

 

پی پی 172 سابق وفاقی حماد اظہر کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے۔

این اے 130 پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے۔ اسی طرح پی پی 172 سابق وفاقی حماد اظہر کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے۔ این اے 125 sy پی ٹی آئی جمیل اصغر بھٹی کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے۔

سابق وزیر محمد عاطف کے حلقہ پی کے 58 اور قومی اسمبلی کی نشست این اے 22 سے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی بھی مسترد کردیے گئے۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 121 سے مسرت جمشید اور ان کے شوہر جمشید اقبال چیمہ کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئیے گئے ۔ اسی طرح ڈسکہ کے حلقہ این اے 73 سابق اسٹیٹ منسٹر ڈیفنس علی اسجد ملہی، سابق صوبائی وزیر باؤ رضوان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے گئے دونوں پی ٹی آئی کے امیدوار تھے اور انہوں نے گرفتاری کے بعد میڈیا پر آکر سیاست چھوڑنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

پی پی 59 سے  4 امیدواروں کے کاغذات مسترد ہوئے۔ جن میں پی ٹی آئی رہنما ناصر چیمہ،جمال ناصر چیمہ،عمران یوسف گجر کے شامل ہیں۔

کاغذات نامزدگی منظور 

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 123، این اے 242 سے شہباز شریف،  حلقہ این اے 117 گلوکار ابرار الحق، پی ٹی آئی کے اکمل خان باری، این اے 117 سے تحریک انصاف کے علی اعجاز نٹر کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے۔

نواز شریف کے این اے 123 سے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے جبکہ مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز کے لاہور اور سرگودھا کے تمام صوبائی حلقوں پر جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے۔ مریم نواز نے پی پی 159، پی پی 160، پی پی 165 اور پی پی 80 سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔

سابق وزیر داخلہ چودہری نثار علی خان کے قومی صوبائی دونوں کاغذات نامزدگی بھی منظور کرلیے گئے جبکہ این اے 149 سے سینئرسیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی کے بھی کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے۔

چیرمین سیںٹ صادق سنجرانی کے کاغذات این اے 260 اور پی بی 32 چاغی سے منظور کرلیے گئے، صادق سنجرانی بلوچستان عوامی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے۔

جی ایچ کیو حملہ کیس میں گرفتار ملزم عمر تنویر بٹ کے حلقہ پی پی 14 سے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے۔ سابق ایم پی اے عمر تنویر بٹ اس وقت جی ایچ کیو حملہ میں گرفتار ہیں۔

 

اسی طرح پی پی 172 پی ٹی۔ آئی کے اعظم خان نیازی ،بجاش نیازی کے کاغذات نامزدگی منظور جبکہ رانا مشہود کے کاغذات نامزدگی بھی منظور کرلیے گئے۔ تونسہ شریف سے سابق وزیراعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار کے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے۔

لاڑکانہ سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 194، این اے 196 اور لاہور کے حلقہ این اے 127 سے بلاول بھٹو اور فریال تالپور کے صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایس 10 سے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے۔ لاڑکانہ کے حلقہ این اے 194 سے راشد سومرو، حلقہ این اے 196 سے جے یو آئی کے ناصر محمود کے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے۔

اُدھر تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ پی پی 59 سے امیدوار جمال ناصر چیمہ کے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کو ریٹرننگ افسر کے دفتر کے باہر سے گرفتار کر کے پولیس نے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.